ممبئی،3؍ جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ ممبئی کے کچھ بلڈروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے ادھو حکومت نے درمیانی شہر میں قدیم مہاکالی غاروں کا ٹی ڈی آر کیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا گھوٹالہ ہے۔
بتادیں کہ یہ مہاکالی غار ممبئی کے جوگیشوری علاقے میں موجود ہیں۔بی جے پی کا الزام ہے کہ غار میں ایک قدیم مندر بھی موجود ہے۔ یہ ایک سیاحتی مقام بھی ہے، جس کی حکومت سودے بازی کر رہی ہے۔ ادھو حکومت نے تمام قوانین اور عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی بدعنوانی کا ارتکاب کیا ہے۔ بی جے پی لیڈران کریت سومایا اور پروین ڈیریکر ان غاروں کے اندر جاکر سیکڑوں کارکنوں کے ساتھ احتجاج کیا۔بی جے پی کے مطابق ادھوو حکومت بلڈروں کے ساتھ مندر کی جگہ کی سودے بازی کر رہی ہے۔
بی جے پی لیڈر کریت سومیانے الزام عائد کیا کہ ٹھاکرے حکومت نے ممبئی کے جوگیشوری کے علاقے میں مہادالی غارکی ٹی ڈی آر بلڈر اویناش بھوسلے اور شاہد بلوا کو زمین دینے کا فیصلہ کیا ہے۔یکم اگست 1805 کو انگریزوں نے مہاکالی غار کے قریب 999 سالوں تک تقریبا 1 مربع میٹر یعنی 10 ہزار مربع فٹ کا لیز دیا۔ 1909 میں حکومت ہند نے اس غار کو محفوظ یادگاروں کے طور پر اعلان کیا۔
مہاکالی غار ہندوستانی حکومت کی منطقی سروے کے تحت ہے۔ ایسی صورتحال میں اس کا ٹی ڈی آر نہیں دیا جاسکتا۔ اس نے مہاپالیکا یعنی بی ایم سی نے پہلے ہی کہا ہے۔ اس کے باوجود کچھ بلڈروں نے ٹی ڈی آر سے متعلق اپنی آواز اٹھائی۔2014 میں اویناش بھوسلے، شاہد بلوا اور ونود گوینکا کی کمپنی نے بھی اس سلسلے میں ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی لیکن اب تک 6 سال ہوچکے ہیں، عدالت نے بلڈروں کا مطالبہ قبول نہیں کیا۔ جولائی 2019 میں ممبئی میونسپل کارپوریشن نے بھی بلڈروں کا مطالبہ قبول نہیں کیا لیکن ان سب کے باوجود ٹھاکرے حکومت نے کئی سال پرانے مہاکالی غار کے ذریعہ ٹی ڈی آر بنانے والوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔